مُردوں کو سب سے پہلے کب دفن کیا گیا؟سائنس کیا کہتی ہے؟
مچھلی
پکڑنے، آرٹ تخلیق کرنے اور پتھروں کو اوزار کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ،
اپنے مرے ساتھیوں کی تدفین کو ایک زمانے میں ہومو سیپیئنز کو
ہمارے معدوم ہونے والے انسانی آباؤ اجداد سے الگ کرنے والی خصوصیات میں سے ایک
سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ایک صدی سے زیادہ عرصے سے آثار قدیمہ کی دریافتوں نے اس خیال
کو ایک طرح سے چیلنج کردیاہے کہ یہ عمل صرف جدیددورکے انسانوں کے لئے مخصوص ہے ،
اور ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آخر اسکی شروعات ہوئی تو کب اور کس دور میں؟کچھ
عرصہ پہلے ایسا ہی ہوا، جب سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے انسانی قبریں دریافت
کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس مضمون میں ہم اسی بارے میں گفتگو کرنے والے ہیں کہ آخر
انسانوں نے اپنے "مرحومین" کی تدفین کا سلسلہ کب اور کیسے شروع کیا؟
قدیم
غاروں میں پائے جانے والے قبرستان
سنہ
2013 میں جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے تقریبا 30 میل شمال مغرب میں رائزنگ
اسٹار نام کے غاروں کے سلسلے کی کھوج کرنے والے ایک جوڑے نے ہومو
نالیدی نام کے قدیم انسان کی باقیات دریافت کیں۔"ہومو نالیدی"
انسان نمامخلوق تھی، جس کے چھوٹے بازو اور دماغ کا سائز جدید انسان کے سائز کا ایک
تہائی تھا، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ 240،000 سے 500،000 سال پہلے
کے درمیان افریقہ کے میدانوں میں رہاکرتاتھا۔ اس کے فورا بعد جوہانسبرگ کی
یونیورسٹی آف وٹ واٹرسرنڈ کے ماہر پیلیو اینتھروپولوجسٹ لی برجر نے سائنس دانوں کی
ایک ٹیم کے ساتھ ملکر زیر زمین غاروں کھدائی کی ، جس کے دوران انہیں کم از کم 27
افراد کی ہڈیاں ملیں ۔
جب
برگر اور ان کے ساتھیوں نے 2015 میں جرنل ای لائف میں اپنے ابتدائی نتائج
شائع کیے تو انہوں نے نوٹ کیا کہ ہڈیوں کی باقیات غار کے اندر ایک کمرے میں زیرِزمین
اسطرح رکھا گیا تھاجیسے انہیں مرنے کے بعد رکھا گیاہو ، اور اندازہ لگایا کہ
ہومونالیدی نامی اس قدیم انسان نے اس غاروں کے سلسلوں میں اپنے مردوں کو دفنایا
یاٹھکانے لگایا تھا۔
ان
محققین نے زیر زمین غاروں کے ان سلسلوں میں کئی سفر تحقیق کے ارادے سے
کئے۔اس دوران انہوں نے دوسالم لاشوں کی دریافت بھی کی۔اس چیمبر کی
مٹی اور چٹانوں کے تجزیے کے بعد، ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ ہومو
نالیدی نے صرف اس مقام پر لاشیں جمع نہیں کیں بلکہ انہوں نے اپنے مرنے
والوں کو غار میں دفن کیا، پھر قبروں کی نشان دہی کے لئے اس کی دیواروں پر فن پارے
بھی بنائے۔ ان کے نتائج 5 جون 2023 کو ایک پری پرنٹ میں جاری کیے گئے۔
تدفین
کا عمل آخر کب شروع ہوا؟
مقبوضہ
فلسطین کے شہر قافزہ میں انسانی تدفین کی ایک اور قدیم مثال ملتی ہے جو تقریبا
100،000 سال ایک غار میں ہوئی تھی، جہاں 1930 اور 1960 کی دہائیوں میں کھدائی کے
دوران 15 ابتدائی ہومو سیپیئنز کی باقیات دریافت ہوئی تھیں۔ حال ہی میں،
افریقہ میں سب سے قدیم انسانی" تدفین گاہ" 2013 میں کینیا کے ساحل
کے قریب دریافت ہوئی تھی، جہاں تقریبا 78،000 سال پہلے، ایک ڈھائی یا تین سالہ چھوٹے
بچے کو Fetal
Position میں رکھا گیا تھا
اور اسے ایک گہری قبر میں دفن کیا گیا تھا۔
ہومو
نالیدی آخر ہے کیا ؟
ہومو
نالیڈی ایک معدوم ہومینن نوع ہے جو 2013 میں رائزنگ سٹار کیو سسٹم، گوٹینگ
صوبہ، جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی تھی جو کہ 335,000–236,000 سال قبل درمیانی
پلائسٹوسین میں پائی جاتی تھیں۔ ابتدائی دریافت میں ہڈیوں کے 1,550 نمونے شامل
ہیں، جو 737 مختلف ہڈیاں جو کم از کم 15 مختلف افراد کی باقیات تھیں۔
عصری
ہومو سے مماثلت کے ساتھ، وہ آبائی آسٹرالوپیتھیکس اور ابتدائی ہومو (موزیک ارتقاء)
کے ساتھ کئی خصوصیات کا اشتراک کرتے ہیں، خاص طور پر 1,270–1,330 سینٹی میٹر کے
مقابلے میں 465–610 cm3 (28.4–37.2 cu in) کی چھوٹی کرینیل صلاحیت۔ (78–81 cu in) جدید انسانوں میں۔ ان کی اونچائی میں اوسطاً 143.6 سینٹی میٹر (4
فٹ 9 انچ) اور وزن 39.7 کلوگرام (88 پونڈ) ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جس سے 4.5
کا ایک چھوٹا انسیفلائزیشن کوٹینٹ ملتا ہے۔انکی دماغی اناٹومی انسانوں سے
ملتی جلتی معلوم ہوتی ہے۔ بڑے دماغ والے ہم عصروں کے درمیان اتنے لمبے عرصے تک
چھوٹے دماغ والے انسانوں کا استقامت پچھلے تصورات پربھی نظرثانی
پرمجبورکرتا ہے۔
