جنگیں کب اور کیسے شروع ہویں؟

 

انسان نے "جنگ"لڑنا کیوں ،کب اورکیسے شروع کیا؟


انسان کب سے اس دنیا میں ہے یہ بات آج تک سائنسی تحقیق کوئی نتیجہ اخذنہیں کرپائی۔کیونکہ جب بھی محققین کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں ،ایک نئی دریافت اس کی سمت ہی بدل دیتی ہے۔پہلے یہ مانا جاتا تھا کہ انسان چندلاکھ سال پہلے ہی دھرتی پر رہنے لگا تھا۔لیکن جدید تحقیق کے مطابق انسان یا انسان جیسی مخلوق زمین پر کروڑوں سال پہلے بھی موجود تھی۔یہ انسان ہمارے یعنی آج کے انسان کے آباواجداد میں سے تھا یا نہیں یہ واضح نہیں  ہے ۔لیکن انسان جب ہزاروں سال پہلے غاروں میں رہا کرتا تھا،اس وقت انسانوں کی ایک اور نسل بھی تھی جو ہمارے انہی آباواجداد کے ساتھ زندگی گزاررہے تھے۔یہ بات چالیس ہزار سال پہلے کی ہے جب یہ دونوں انسان آخری بار ایک دوسرے زمین شراکت کررہے تھے۔ان دونوں انسانی نسلوں کا نام ہے نیندرتھلز اور ہوموسیپینز۔کہا یہ بھی جاتا ہے کہ ہوموسیپینز نیندرتھلز کے مقابلے میں بہت زیادہ ہشیارچست اور مضبوط تھے۔جب بھی ان دونوں کا آمنا سامنا ہوتا ،ان میں شکار گاہوں پر قبضے کی جنگ شروع ہوجاتی ۔ہماری انسانی تاریخ کی یہ ابتدائی جنگیں شمار کی جاتی ہیں۔
یہ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں چھاپہ مار قسم کی جنگیں تھیں۔اس مضمون کا مقصد انسانی تاریخ میں ہونے والی ان جنگوں کی نوعیت،وجوہات اور طریقہ کار کا تجزیہ سائنسی تحقیق کی روشنی میں پیش کرنا ہے۔




زراعت کا عروج (10000ہزارسال قبل) جنگ کا عروج

تقریبا 12,000 سال پہلے ، انسان نے کاشتکاری شروع کی ۔مانا جاتا ہے کہ نیل کے ساحلوں پر انسان نے سب سے پہلے زراعت کی ابتداکی  ۔یہ وہ زمانہ تھا جب زمین پر دیگر انسان نما یا انسانی انواع جیسے نیندرتھلز کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا۔اب زمین پر صرف ہوموسیپینز کا ہی راج تھا۔اس زمانے انسانی آبادی کا فی بڑی ہوچکی تھی ۔انسان افریقہ سے نکل کر پوری زمین پر پھیل چکا تھا۔ایک جدید دور کا آغاز ہوچکا تھا جہاں انسان غاروں سے نکل کر بستیوں میں آباد ہونا شروع ہوچکا تھا۔اس دور کو نیولیتھک دور بھی کہا جاتا ہے۔اسی دور میں زرخیز زمینوں اور آبی زخائر پر قبضے کیلئے جنگیں یا جھگڑے شروع ہوچکے تھے۔مثال کے طور پر کینیا کی جھیل "ترکانا" کے پاس سے انسانی باقیات دریافت ہوئیں ، دریافت ہونے والی انسانی باقیات میں سب  کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، تیر کے زخم اور کھوپڑیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔یہ باقیات 10 ہزار سال پُرانی تھیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس جھیل کے کنارے ایک خظرناک جنگ ہوئی تھی۔موجودہ جرمنی میں بھی ایک ایسا ہی قتل عام7000 سال پہلے ہوا، جہاں حملہ آوروں نے لوگوں  کو قتل کرنے سے پہلے ان کی پنڈلی کی ہڈیاں توڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔ جرمنی اور آسٹریا کے علاوہ کروشیا اور فرانس میں بھی  ہزاروں سال پہلے اسی طرح کے قتل عام کا انکشاف ہوا ہے۔ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک جیریکو کے باشندوں نے 8000 قبل مسیح کے آس پاس شہر کی دیواریں تعمیر کیں ، یہ دیوریں  حملہ آوروں کو دور رکھنے کے لئےتعمیر کی گئیں تھیں۔جیسا کہ جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں نومبر 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے نیولیتھک تنازعات کو "تیز رفتار حملوں یا مختصر چھاپوں کا مرکب سمجھا جاتا ہے، جو عام طور پر چند دنوں سے زیادہ نہیں چلتےاور 20 یا 30 سے زیادہ افراد کو متاثر نہیں کرتا ہے۔


پانچ ہزار سال قبل شروع ہونے والی طویل لڑائیاں

یورپی ملک سپین میں 1985میں ایک مقام پر انسانی باقیات دریافت ہوئیں۔سائنسی تجزیے سے پتا چلا کہ یہ باقیات 5ہزار سال سے بھی کچھ زیادہ پرانی ہیں۔اس مقام پر 338 افراد کی باقیات تھیں ،جو ایک خطرناک قسم کے قتل عام کی طرف اشارہ کرتی تھیں۔ تحقیق  کے یہ لڑائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔یہ باقیات، جو حادثاتی طور پر دریافت ہوئی تھیں، اصل میں ایک اور نیولیتھک  دورکاقتل عام سمجھا جاتا ہے۔محققین نے یہ طے کیا کہ یہ جنگ مہینوں یا سالوں تک جاری رہی تھی۔مانا جاتا ہے کہ یہ ایک علاقائی بین الگروہی تنازعے کا نتیجہ تھی۔ جس کی وجوہات میں "وسائل کی مسابقت اور سماجی پیچیدگی تناؤ کا سبب بن سکتی ہے، جو ممکنہ طور پر مہلک تشدد میں تبدیل ہو سکتی ہے۔جوں جوں زراعت نے ترقی کی، جنگ میں بھی پیش رفت ہوئی ہوگی۔ یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں قدیم تاریخ کے سربراہ الفریڈ ایس بریڈفورڈ کہتے ہیں کہ 'چونکہ انہیں زمین کو سیراب کرنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا تھا، اس لیے مل کر کام کرنے اور تعاون کرنے کے خیال نے "فوج" کو بھی جنم دیا۔ اپنے کھیتوں اور بستیوں کا دفع کرنے کیلئے انہیں فوجیں بنانی پڑیں۔

تانبے کے اوزار اور ہتھیار وں نے مشرق وسطیٰ اور دیگر جگہوں پر پتھر کے تیروں، نیزے کی نوکوں، بلیڈوں اور کلہاڑیوں کی جگہ لینا شروع کر دیا۔ 3300 قبل مسیح کے آس پاس کانسی کا دور آنے تک ، میسوپوٹیمیا اور شمالی افریقہ میں ابتدائی تہذیبوں نے باضابطہ رہنماؤں ، کمانڈ وں ، الگ الگ اکائیوں اور رسد کے نظام کے ساتھ بڑی فوجیں تیار کی گئی تھیں۔ یہ تہذیبیں،  خواندہ تھیں جو اپنی فوجی مہمات کو دستاویزی شکل دے سکتی ہیں۔یونان سے باہر، بڑے پیمانے پر لڑائی کو یورپ پہنچنے میں زیادہ وقت لگا۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے 1200 قبل مسیح کے آس پاس جرمنی میں دریائے ٹولنس کے کنارے ایک جنگ  ہوئی جس میں شاید 4،000 جنگجو شامل تھے۔ اسی طرح پیرو، میکسیکو اور چین جیسے مقامات پر بھی فوجیں تیار ہوئیں۔ پوری دنیا میں جنگیں آج کی طرح  ہی نظر آنے لگی تھیں۔ 

 

 

 

Tags