طیارہ حادثے میں زندہ بچ جانے والی 17سالہ لڑکی کی داستان



    24دسمبر 1971 کا دن تھا۔جہاز میں بیٹھی ایک 17 سالہ لڑکی جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔یہ طیارہ پیرو کے شہر پولیکا جانے کے لئے بالکل تیار کھڑا تھا۔جلد ہی طیارہ تھوڑا سا ہلا،پھر رن وے پر تیزی سے دوڑنے لگا۔پھر طیارہ ہوا میں بلند ہوا۔یہ لڑکی جہاز کی کھڑکی سے باہر بادلوں کا نظارہ کر رہی تھی ۔اسکا نام جولین کوپیک تھا ۔جولین  کوپیک نے حال ہی میں اپنا گریجویشن مکمل کیا تھا۔اسکی ماں ماریہ 20 دسمبر کو ہی  پینگوانا جاچاہتی تھیں ۔لیکن جولین اپنی گریجویشن کی تقریبات بھی اٹینڈ کرنا چاہتی تھی اسلئے وہ اور انکی ماں ماریہ نے 24 دسمبر کی فلائٹ بک کیں۔

    جولین 1954 میں پیرو کےعلاقے پینگوانا میں  ایک جرمن خاندان میں پیدا ہوئیں۔انکے والد ایک زولوجیسٹ تھے جبکہ اسکی ماں پرندوں کی سائنس کی ماہر تھیں۔چونکہ پینگوانا ایک حیاتیاتی ریسرچ سینٹر تھا ،اسلئے جولین کے ماں باپ دونوں یہاں ملازم تھے۔یہ علاقہ جنگلی تھا اسلئے اسے بائولوجیکل ریسرچ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔جولین کی تربیت پیرو کے اسی جنگلی علاقے میں ہوئی تھی۔اسکی ابتدائی تعلیم وتربیت بھی اسی علاقے میں ہوئی۔اعلیٰ تعلیم کیلئے وہ پیر کی کیپٹل سٹی لیما چلی گئیں۔24 اکتوبر 1971 کے دن وہ اپنی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر پینگوانا جارہی تھیں۔وہ پچیس دسمبر 1971 کی شام سے پہلے اپنے گھر پہنچنا چاہتی تھیں کیونکہ یہ کرسمس کی رات تھی۔انکا خاندان کرسمس بڑی شان سے مناتا تھا۔جس جہاز میں وہ سوار تھیں اسمیں کل 99 مسافر سوار تھے۔یہ ایک لاک ہیڈ ایل -188طیارہ تھا۔ لاک ہیڈ L-188 الیکٹرا  ایک امریکی ٹربوپروپ ہوائی جہاز ہے جسے لاک ہیڈ نام کی کمپنی  نے بنایا تھا۔ پہلی باراسے 1957 میں اڑایا گیاتھا، یہ ریاستہائے متحدہ امرکہ میں بنایا گیا پہلا بڑا ٹربوپروپ ہوائی جہاز تھا۔ شروع میں اسکی  فروخت اچھی تھی، لیکن اسکا ریکارڑ بہت ہی برا تھا۔اسکے 170 طیاروں میں سے 58 طیارے یا تو کریش ہوئے تھے یا کسی اور خرابی کی وجہ سے ناکارہ قراردئے گئے تھے۔لیکن اسکے باوجود پیرو جیسے پسماندہ ملکوں میں یہ اس وقت چلائے جاتے تھے۔

    جولین کے والد کو یہ بات معلوم تھی اسلئے اس نے جولین اور اسکی ماں ماریہ کو جہاز بدلنے کو کہا لیکن وہ کرسمس کی رات ہر حال میں اپنی فیملی کے پاس پہنچنا چاہتیں تھیں،اسلئے انہوں نے  رسک لینے کا فیصلہ کیا۔اور فلائٹ میں بیٹھ گئیں۔جولین دوسری صف میں کھڑکی کے پاس والی سیٹ پر بیٹھ گئی جبکہ اسکی ماں درمیان والی سیٹ پر۔یہ طیارہ لانسا نام کی ایک فلائنگ کمپنی کی ملکیت تھا۔اس طیارے کا نام فلائٹ 508 تھا۔شروع میں یہ فلائٹ ایک نارمل فلائٹ کی طرح ہی لگی۔یہ طیارہ بڑے سکون سے ایمزون کے جنگلوں کے اوپر سے گزر رہاتھا۔اسکی بلندی زمین سے 30ہزار فٹ یا تین کلومیٹر کے قریب تھی۔یہ طیارہ ابھی بھی اپنی منزل سے 20 منٹ کی دوری پر تھا۔تبھی اچانک طیارہ ہلنے لگا۔پسینجرز کو لگا کہ کہ یہ کوئی معمول کی بات ہوگی ،لیکن انکا یہ گمان تب خوف میں بدل گیا جب انکا سامان انکے ہی سروں پر گرنے لگا۔کھڑکی سے باہر دیکھنے پر جولین کو عجیب سا نظارہ دکھائی دیا۔اچانک آسمانی بجلی چمکی اور سیدھی طیارے کی ونگ سے ٹکرائی جس سے ونگ ایک خطرناک آواز کے ساتھ اُڑ گئی۔جولین کو چاروں طرف دھواں ہی دھواں نظر آیا۔پھر اچانک سے خاموشی سی چھاگئی۔

    آسمان اچانک سیاہ ہو گیا۔ "دن کی روشنی رات میں تبدیل ہوگئی ،چاروں طرف بجلیاں چمکنے لگیں۔جہاز ڈولنے لگ گیا۔ اوور ہیڈ لاکرز  میں رکھا سامان پسینجرز کے سروں پر گرنے لگا۔ مسافروں کے سامنے رکھے سینڈوچ کی ٹرے ہوا میں  بلند ہونے لگیں۔ مسافر ڈر کے مارے  چیخنے  اور رونے لگے۔جولین کی ماں  ماریہ،ڈری ہوئی آواز میں کسی سے کہ رہیں تھی ،مجھے لگتا ہے سب ٹھیک ہوجائیگا۔تبھی اچانک بجلی چمکی اور جہاز کے ایک بازو سے ٹکرائی جسے دیکھ کر جولین کی ماں ماریہ نے کہا "بس اب سب ختم"۔ابھی جولین اسی بدحواسی کے عالم میں ہی تھیں کہ اچانک مسافروں کی چیخیں اور انجن کی خوفناک کہیں غائب ہوگئیں۔

    جولین اپنی سیٹ سمیت گررہی تھی۔اسے نیچے جنگل بھی نظر آرہا تھا۔جہاز بری طرح حادثے کا شکار ہوچکا تھا۔وہ اپنی سیٹ سمیت جہاز سے الگ ہوچکی تھی اور زمین کی طرف تیزی سے گررہی تھی۔وہاں بارس بھی ہورہی تھی ۔تیز ہواوں کی وجہ سے اسے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی۔ڈرکی وجہ سے جولین نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔پھر اسے کچھ ہوش نہ رہا۔جب جولین کو حوش آیا تو اسکے چاروں طرف جنگل ہی جنگل  تھا۔وہ اب بھی اپنی سیٹ پر ہی تھی اور جنگلی درخت پر اٹکی ہوئی تھی۔اسکی سیٹ بیلٹ بندھی ہوئی تھی۔وہ سیٹ سمیت جہاز سے گری تھی ۔اللہ کا کرم یہ تھا کہ وہ اب بھی زندہ تھی۔اللہ نے اسے دوسری زندگی دی تھی۔وہ ایک خطرناک ہوائی حادثے میں زندہ بچ تو گئی تھی۔لیکن اسکی مشکلات کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔وہ دنیا کے خطرناک ترین جنگل ایمیزون میں تھی جہاں سے زندہ نکلنا بھی ایک معجزہ تصور کیا جاتا ہے۔اس جنگل میں لیا گیا ایک غلط فیصلہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ایمیزون کے جنگل سے زندہ بچ  نکلنا بھی ہوائی حادثے میں بچ جانے جتنا ہی مشکل اورجوکھم بھراہے۔اس جنگل میں جہاں راستہ بھٹک جانا  کسی کی جان لے سکتا وہیں پر یہاں کے خونخوار جانور اور بھوک پیاس بھی کوئی کم خطرناک نہیں۔

    اب آتے ہیں  جولین کی کہانی کی طرف۔

    جولین اب جنگل کی زمین پر تھیں۔وہ اگلے چوبیس گھنٹوں تک اپنی جگہ سے اٹھ نہیں پائی۔اسکی کالر کی ہڈی ٹوت چکی تھی۔بارش اب بھی ہورہی تھی۔دودن تک وہ وہیں پڑی رہی۔دودن بعد اس نے خود کو اپنی سیٹ سے الگ کیا۔پاس ہی جہاز کا کچھ ملبہ پڑا ہواتھاجس سے اسنے دوسیٹیں اور اٹھاکر اپنے لئے شیلٹر بنایاتاکہ وہ بارش سے بچ سکے۔وہ چوٹیں لگنے کی وجہ سے اٹھ نہیں پارہی تھی۔بارش کے تھمنے کے بعد اسنے آس پاس رینگ کر دوسرے مسافروں کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن اسے کوئی بھی نہیں مل سکا۔کیونکہ جہاز کا ملبہ اور مسافر میلوں تک پھیل گیا تھا۔تین دن بعد وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوپائی ۔اسکی نظر کمزور تھی اسلئے وہ چشمہ استعمال کرتی تھی۔جس کے بغیر وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتی تھیں۔اس حادثے میں اسکا ایک سینڈل اور چشمہ دونوں کہیں کھوگئے جوکہ ایک الگ مصیبت تھی۔جولین کو ریسکو ہیلی کاپٹروں کی آواز آرہی لیکن گھنے جنگل میں ہونے کی وجہ سے اسے کوئی بھی نہیں دیکھ پارہا تھا۔شروع میں اسے لگا کہ کوئی نہ کوئی ہیلی کاپٹر اسے بچا لیگا مگر دھیرے دھیرے اسکی امید دم توڑتی گئی۔کیونکہ اب ہیلی کاپٹروں کی آوازیں آنی بند ہوگئی۔

    اب سکے سامنے دو ہی راستے تھے ۔یا تو وہ خود چل کر اس جنگل سے نکلے یا پھر یہیں بیٹھ کر اپنی موت کا انتظار کرے۔پھر اسے یاد آیا کہ ایک دن اس والد نے اسے ایک کہانی سنائی تھی جس میں ایک برطانوی مہم جو ٹیم اسی جنگل حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔اس مہم جو ٹیم نے اپنے ایک ساتھی کو مدد لانے بھیجا جو اس جنگل میں بھٹک گیا۔لیکن وہ ندی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے آخر کار جنگل سے نکل کر انسانی آبادی تک پہنچنے  میں کامیاب ہوگیا۔جولین نے بھی یہی کرنے کا فیصلہ کیا۔جب وہ جہاز کے ملبے کے پاس تین دن تک زخمی حالت میں پڑی تھی تو اس نے دیکھا تھا کہ وہاں پر ایک چشمہ بھی ہے۔یہ چشمہ بہت ہی چھوٹا تھا لیکن پھر بھی اس نے اس چشمے کے پانی کے بہاؤ کی سمت چلنے کا فیصلہ کیا۔اسکا یہ فیصلہ بھی کم خطرناک نہیں تھا۔کیونکہ چشمے کے اس پانی میں سٹنگرے نام کی خطرناک مچھلیاں بھی  پائی جاتی تھی جو کسی بھی انسان کی جان لے سکتی ہیں۔ان مچھلیوں سے بچنے کیلئے اسنے ایک لکڑی کا سہارالیا ۔وہ پاؤں رکھنے سے پہلے لکڑی سے اچھی طرح چیک کرتی اور پھر پاؤں رکھتی ۔حیران کن طور پر اسی دوران اسےہڈیا ں ٹوٹنے کے باوجود نہ تو درد محسوس ہورہا تھا نہ ہی بھوک ۔اسے بس پیا س ہی لگتی تھی۔اسکے پاس کچھ کینڈیز تھیں جو وہ کریش والی سائٹ سے اپنے ساتھ لائی تھی۔وہ دن میں مشکل سے ایک یا دو کینڈیز کھاتی تھی۔اسکی سب سے بڑی مشکل اسکے کھلے زخم تھے جن پر اب کیڑے پڑنے شروع ہوگئے تھے۔اسکے لئے جنگل نیا نہیں تھا۔اسکا بچپن جنگل کے آس پاس ہی گزرا تھا۔اسکے ماں باپ نے اس کی جنگلوں میں سروائیو کرنے کی  تربیت بھی کررکھی تھی۔اسکی ماں ماریہ پرندوں پر ریسرچ کرتی تھی اسلئے اسے پرندوں کے بارے میں بچپن ہی سے بہت سی معلومات اسکی ماں سے ملی تھی۔اسکی یہی تربیت اس مشکل وقت میں اسکے کام آرہی تھی۔وہ دھیرے دھیرے ندی میں آگے بڑھ رہی تھی۔وہ پرندوں کی آوازوں سے راستے کا پتا لگانا بھی جانتی تھی۔یہ اسکی بچپن کی تربیت تھی۔

    ندی میں آگے بڑھتے بڑھتے اسے کریسٹڈ ہن نام کے ایک پرندے کی آواز آئی۔یہ پرندہ دریاؤں کے آس پاس ہی رہتا ہے۔جولین نے اب پانی کے راستے جانے کے بجائے اس پرندے کی آواز کی طرف جنگل میں بڑھنا شروع کیا۔جسکی وجہ سے وہ ایک ندی کے کنارے پر پہنچ گئی۔یہ ندی بہت چھوٹی تھی جس دونوں طرف گھنا جنگل تھاجسکی وجہ سے یہاں پر کسی انسان کا کشتی میں آنا ممکن نہیں تھا۔لیکن جولین کو یہ بات معلوم تھی کہ ایمیزون کی ندیاں اکثر کہیں چوڑی تو کہیں پتلی اور تنگ ہوتی ہیں۔یہ ندی بھی اس مقام پر تنگ ضرور تھی لیکن آگے جاکر چوڑی اور کھلی ہوسکتی تھی  اسلئے اسنے ندی کے بہاؤ کی سمت چلنا جاری رکھا۔ندی آگے جاکر چوڑی ہوتی گئی ۔جولین نے خود کو ندی کے بہاؤ کے حوالے کردیا۔یہ ندی مگر مچوں سے بھری تھیں لیکن خوش قسمتی سے جولین ان کا شکا رہونے سے بچتی رہی۔

    اسے حادثے کی جگہ سے نکلے دس دن ہوچکے تھے۔آخر کار اسے ندی میں ایک کشتی نظر آگئی۔اب تک وہ بہت کمزورہوچکی تھی۔اسے لگا کہ یہ اسکا ہیلوسینیشن ہے۔پھر بھی وہ اس کشتی کی طرف بڑھتی رہی۔اسے یقین تب آیا جب اسنے کشتی کو دونوں ہاتھوں سے چھوا۔اب کہیں جاکر اسے محسوس ہوا کہ وہ محفوظ ہے۔اس نے غور سے چاروں طرف دیکھنا شروع کیا۔اس ندی ایک طرف سے ایک راستہ جنگل کی طرف جاتا دکھائی دیا۔وہ اس راستے کی طرف بڑھی ۔یہ راستہ ندی سے اوپر کی طرف جارہا تھا۔یہ چند منٹوں کا راستہ طے کرنے میں اسے کئی گھنٹے لگے۔اب اسکے سامنے ایک لکڑی کا ہٹ نظر آیا ۔وہاں پر اسے کشتی کی موٹر اور گیسولین کے کچھ کین نظرآئے۔وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔رات ہونے والی تھی  اسلئے جولین نے وہی رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو اسے انسانوں کی آوازیں آنے لگی۔اچانک تین مقامی لوگ کیبن میں آئے ۔وہ یہ دیکھ کر ڈرگئے کہ ایک گھوری لڑکی جس کی آنکھ سوجھی ہوئی ہے ،بال بکھرے ہوئے ہیں ،سارے جسم پر کیچڑ ہےاور فرش پر لیٹی ہوئی ہے۔وہ جولین کو بھوتنی سمجھ کر بھاگنے لگے۔جولین نے ہمت کرکے انہیں سپینش زبان میں بتایا کہ وہ پلین کریش کی سروائیور ہے۔ان تینوں نے بھی پلین کریش کے بارے میں سن رکھا تھا،اسلئے وہ تینوں اسے کشتی میں بٹھاکر قریبی ٹاون لے گئے جہاں اسکا علاج کیا گیا۔

    یہ بات ساری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔جولین کی ہسپتال میں لی گئی تصویریں پوری دنیا میں پھیل گئی۔دنیا بھر کے جرنلسٹ اسکا انٹرویو کرنا چاہتے تھے۔وہ اب ایک سیلبریٹی بن چکی تھی۔وہ کئی انٹرویو دے چکی تھی لیکن یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔اسکی زندگی پر کئی فیچر فلمیں بنائی جاچکی تھی۔بالآخر وہ اس سب سے تنگ آکر گمنامی میں زندگی گزارنے لگی۔1989میں جرمن فلم ڈائریکٹر وارنراسے تلاش کرنے میں کامیاب ہوا۔وارنر نے اسے ایک چونکا دینے والی بات بتائی۔1971کی اس فلائٹ 508 میں اسکا بھی ٹکٹ تھا لیکن اسے کسی کام کی وجہ سے ٹکٹ کینسل کرنا پڑھا ورنہ وہ بھی اس حادثے میں مارا جاتا۔وارنر نے جولین کی زندگی پر ایک فلم بنائی جس کا نام "ونگزآف ہوپ"ہے۔جولین کی یہ سچی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔