76 دنوں تک سمندرمیں اکیلا زندہ بچ جانے والا انسان

 

اسٹیون کالاہن کی افسانوی داستان: 76 دنوں تک سمندرمیں زندہ بچا انسان



اسٹیون کالاہن ، 6 فروری 1952 کو پیدا ہوئے ، ایک کثیر الجہتی شخصیت ہیں -وہ ایک مشہور امریکی مصنّف اور ملّاح ہیں۔ تاہم، 1981 میں ان کی زندگی نے ایک ڈرامائی موڑ لیا جب انہوں نے خود کو حیرت انگیز طور پر 76 دنوں تک بحر اوقیانوس کی وسعتوں میں کہیں گُم پایا۔اسکا یہ تکلیف دہ تجربہ ان کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب "ایڈریفٹ: 76 دنوں تک  سمندر میں گم شدہ" کا مرکزی موضوع  بن گیا، جس نے قارئین کو محظوظ کیا اور انکی یہ کتاب36 ہفتوں سے زیادہ عرصے تک نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر فہرست میں شامل رہی ۔آج کی اس تحریر میں ہم انکے اس خطرناک اور جوکھم بھرے سفر میں پیش آنے والے واقعات کا تجزیہ پیش کرنے والے ہیں۔

ابتدائی زندگی

اس  کی دلچسپ کہانی کی تفصیل بتانے  سے پہلے، کالاہن کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ کالاہن بنیادی طور پر ایک میرین انجینئر ہیں جنہوں نے سمندری سفر کو بہتر بنانے کیلئے کئی ایسے آلے متعارف کروئے ہیں جن کے استعمال سے سمندری مسافروں کی زندگیاں کئی خطروں سے محفوظ ہوگئیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس نے اس سمندری سفر کے بعد (جس میں وہ 76 دن سمندر میں موت سے لڑتا رہا) ایک ایسی لائف بوٹ بھی ڈیزائن کی ہے جو سمندری مسافروں کو کسی بھی حادثے کے دوران بحفاظت ساحل تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

خطرناک سفر پر روانگی

1981 میں ، سٹیو کالاہن  کا انکی بیوی سے طلاق ہوگیا۔طلاق کے بعد اسنے اپنی "آزادی " کو انجوائی کرنے کا فیصلہ کیا۔جس کیلئے اسنے بحر اوقیانوس میں   اپنی ہی ڈیزائن کردہ 21 فٹ لمبی کشتی "نیپولین سولو"سےاپنے سفر کا آغاز کیا ۔وہ امریکہ کے نیوپورٹ نامی بندرگاہ سے روانہ ہوا۔جہاں سے وہ برمودا چلاگیا پھر اسنے انگلینڈ کی طرف اپنا سفر شروع کیا۔انگلینڈ کے بعد اسنے کیریبین آئیلینڈ انٹیگوا کا رخ کیا۔یہاں تک اسکا سفر انتہائی پرسکون گزرا۔یہاں پہنچنے کے بعد اسکو پہلا جھٹکا لگا۔اسکی کشتی میں ایک خرابی پیدا ہوئی ۔لیکن کسی نہ کسی طرح اسنے خرابی کو ٹھیک کیا اور سفر جاری رکھا۔وہاں سے وہ سپین کی طرف روانہ ہوا۔وہ ابھی جزائر کینری سے سات دن کے فاصلے پرہی تھا کی اچانک سمندر میں طوفان شروع ہوگیا۔ رات کے طوفان نے ان کے جہاز کو کافی نقصان پہنچایا، اسکی کشتی ممکنہ طور پر وہیل مچھلی سے ٹکرائی تھی۔ یہ جنوری 1982 کی بات تھی ۔اسکے سفر کو پورا ایک ہفتہ ہوچکا تھا۔مبینہ طورپر وہیل مچھلی سے ٹکرانے کے بعد اسکی کشتی بری طرح بیکار ہوچکی تھی۔اسنے اپنی کشتی سے لائف بوٹ نکالی جسمیں تھوڑا سا ضروری سامان  بھی رکھ لیا۔اس ضروری سامان میں سمندری پانی صاف کرنے کا ایک چھاٹا کٹ،کچھ کھانے پینے کا سامان (جو مشکل سے ایک ہفتے کیلئے کافی تھا)اور مچھلی پکڑنے کی راڈشامل تھی۔ان اسکا پرسکون سفر اپنی جان بچانے کی جدوجہد میں تبدیل ہوچکا تھا۔وہ اب بھی کینیڑی جزائر سے 800میل کی دوری پرتھا۔وہ بحر اوقیانوس کی وسعتوں میں بالکل  اکیلاتھا، جہاں اسکے صبرکا امتحان اب شروع ہوچکا تھا۔ سمندری ہوائیں اسے مغرب  کی طرف دھکیل رہی تھیں اور گہرے سمندر میں لیکر جارہی تھیں۔ کھانے پینے کا سامان کچھ ہی دنوں میں ختم ہوگیا۔زندہ رہنے کیلئے اب کالاہن کو خوراک کی ضرورت تھی جس کیلئے اسنے مچھلیاں پکڑنا شروع کیا ۔کبھی وہ سمندری پرندوں کا بھی شکار کیا کرتا۔لائف بوٹ میں پکانے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا اسلئے اسے یہ سب بغیر پکائے ہی کھانا پڑرہا تھا۔پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے وہ یا تو مچھلیوں کا خون پیتا یا پھر بارش کا پانی جمع کرلیتا۔

اسی دوران کئی سمندری جہاز اسکے پاس سے گزرے  لیکن سگنل دینے کے باوجود کسی نے اسکی طرف دھیان نہیں دیا۔ اسے اب لگنے لگا تھا کہ اسے اس سمندر میں مرنا ہوگا،اب اسے کوئی بچانے نہیں آئیگا لیکن اسکے باوجود وہ اپنی چھوٹی سی لائف بوٹ میں ورزش کرتا،پانی جمع کرتا اور مچھلیاں پکڑ کر اپنا پیٹ بھرتا۔یہی اسکی زندگی بچنے کا سبب بنی ۔اسے نہیں لگتا تھا کہ کوئی اسے بچائیگا۔اسلئے اسنے خود کسی جزیرے تک پہنچنے کی کوشش تیز کردی۔اسکو اس لائف بوٹ میں اب دو مہینوں سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا تھا۔ہوا بھی ایسا ہی ،یہ 20 اپریل 1982 کی ایک شام تھی جب اسے دور سے روشنیاں نظر آنی شروع ہوگئیں۔اسے شروع میں یہی لگا کہ یہ اسکا ہیلوسنیشن ہے،یا یوں کہیں کہ اسکا وہم ہے جو سمندرمیں رہنے کی وجہ سے ہوا ہے۔لیکن جوں جوں لہریں اسے روشنیوں کے قریب کرتی گئی اس  کو یقین ہوگیا کہ اب اسکا یہ تکلیفوں بھرا سفر ختم ہونے کو ہے۔وہ سچ میں خشکی تک پہنچ چکا تھا۔سمندر کی لہریں اسے اب پہلی بار خشکی کی طرف دھکیل رہی تھی۔ایسا لگتا تھا جیسے سمندر کی بے پناہ طاقت اس معمولی سے انسان کے حوصلے اور جینے کی چاہت کے آگے سرنگوں ہوگئی ہو۔یہ فرانس کا ایک جزیرہ تھا جس کا نام "میری گلانتے " ہے۔رات بھر وہ روشنیوں کو دیکھتا رہا ،صبح ہوتے ہی کچھ ماہی گیر وہاں سے گزرے اور کالاہن کو بچالیا گیا۔یوں سمجھیں کہ اس دن اسکی 76 ویں سالگرہ تھی کیونکہ وہ 76 دنوں تک روز دوبارہ پیدا ہوتا رہا۔اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہے،لیکن وہ یہ جانتا تھا کہ اب وہ محفوظ ہے۔اسکا وزن بہت کم ہوچکا تھا۔اسے ہسپتال پہنچایا گیا۔وہاں سے وہ واپس اپنے ملک امریکہ چلا گیا۔

اسنے اپنے اس سفر پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو ایک سال تک امریکہ میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بنی رہی۔اسکے اس سفرپر کئی ڈاکومینٹری  فلمیں بنائی جاچکی ہیں۔کئی فلمیں بھی بنائی گئی جس کا مرکزی خیال بھی کالاہن کے اس سفر سے لیا گیا۔اگرچہ کالاہن اسکے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں ایک مشہور شخصیت بن چکا لیکن اسکے باوجود اب بھی وہ اکیلے ہی سمندری سفرپر نکلتا ہے۔جو اسکے سمندر سے جنون کی حد تک محبت کو ظاہر کرتا ہے۔