یہ کہانی اوریگون کی ایک خاتون کی ہے جس نے غلطی سے اپنی SUV کو کیلیفورنیا کی 250 فٹ بلند چٹان سے گرادیا۔ اس کہانی میں اسی بات کی تفصیل ہے کہ وہ 250 فٹ گہری کھائی میں ایک ہفتے تک زخمی حالت میں کیسے زندہ بچی۔بات 6 جولائی 2018کی ہےجب 23 سالہ انجیلا ہرنینڈز، کیلیفورنیا کے بگ سور نامی علاقے سے گزر رہی تھی کہ اچانک ایک چھوٹا جانور اس کے سامنے سے گزرا، جسے بچاتے بچاتے اسکی گاڑی کھائی میں گرگئی۔ کیلیفورنیا ہائی وے کے جس علاقے میں ہرنینڈز کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا اس علاقے میں سڑک پر کوئی حفاظتی انتظام نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس کی گاڑی گہری کھائی میں گر گئی۔اس حادثے کے بعد انجیلا سیدھے کھائی میں گرگئی جو بالکل سمندری علاقے میں واقع ہے۔گاڑی کے گرتے ہی اسمیں پانی بھرنا شروع ہوگیا۔
انجیلا کا دردناک سفر ایک خوبصورت ساحلی شاہراہ، ہائی وے 1 سے شروع
ہوا، جہاں جمعہ، 6 جولائی2018 کو ایک چھوٹے جانور کے ساتھ خوفناک تصادم نے انہیں
200 فٹ اونچی چٹان سے نیچےگرا دیا۔اسکی گاڑی کی حالت دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا
ہے کہ حادثہ کتنا خطرناک تھا۔گرتے وقت اسے کافی چوٹیں آئی لیکن اسکے باوجود بھی
اسکے حوش وہواس قائم تھے۔اسکے شانے کی ہڈی ٹوتٹ چکی تھی۔پسلیوں میں بھی چوٹیں آچکی
تھی۔اسکے باوجود وہ بدہواس نہیں ہوئیں ۔ہرنینڈز نے اپنی فیس بک پوسٹ میں اس بارے میں لکھتی ہیں کہ
"مجھے واقعی کھائی میں گرنایاد نہیں ہے۔"صرف ایک چیز جو مجھے واقعی یاد
ہے حادثے کے بعد میراہوش میں آنا۔ میں ابھی بھی اپنی کار میں تھی اور میں پانی کو
اپنے گھٹنوں سے اوپر کی طرف بڑھتا محسوس کررہی تھی ۔ میرے سر میں درد ہورہاتھا، جب
میں نے اپنے سرکو چھوا تو میرے ہاتھوں پر خون تھا۔"
گاڑی میں پانی بھرنے لگا تو انجیلا نے سب سے پہلے اپنی گاڑی سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اتنے سارے زخم لگنے کے بعد یہ کام انتہائی مشکل تھا مگر جب جان پر بن آئے تو انسان کیلئے کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا۔یہی کچھ انجیلا نے بھی کیا۔انجیلا نے جب دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو ایکسیڈینٹ کی وجہ سے دروازے مکمل لاک ہوگئے تھے۔اسنے ٹول بکس میں سے اوزارنکالے اوردروازے کوتوڑکر خود کو سمندر کے پانی میں گرایا اور تیر کر کنارے کی ایک چٹان پر پہنچ گئی۔
گاڑی
سے نکل کرچٹان پر آنے کے بعد انجیلا نے جب
ادھر اُدھر نظر دوڑائی تو چاروں طرف سمندراور چٹانوں کے سواء کچھ بھی نہیں تھا۔ ساحل
پر پہنچنے کے بعد وہ ساحل پر ہی سوگئی ۔اسے نہیں معلوم وہ کتنی دیر تک سوتی رہی
لیکن جب وہ جاگی تو اب بھی دن ہی تھا۔اسے اب جاکر معلوم ہوا تھا کہ وہ ایک حادثے
کا شکار ہوئی ہے۔اسنے اپنی گاڑی کی طرف دیکھا تو اسکی چھت اڑ چکی تھی۔گاڑی کودیکھ
کر اسے اندازہ ہوا کہ وہ کتنے خطرناک حادثے میں زندہ بچ گئی ہے۔اب اسکا بدن کے ہر
حصے میں دردہورہاتھا۔کھائی سے اوپر دیکھنے پر دھند کے سوا اسے کچھ بھی نظر نہیں
آرہا تھا۔اسکے کپڑے پھٹے ہوئے تھے،بدن زخمی تھااور لہولہان تھا۔اسکے باوجود اسنے
مدد کیلئے پکارنا شروع کیا لیکن اسکی آواز کسی نے نہیں سنی حالانکہ کھائی کے اوپر
سڑک سے گاڑیاں گزر رہی تھیں۔وہ ایک ایسے
علاقے میں پھنس گئی تھی جہاں مشکل سے ہی لوگ سیر کیلئے جاتے ہیں۔وہ اگلے سات دن تک یہی پر پھنسی رہی۔ اسی دوران اس نے نہ
صرف بھوک اور پیاس کا مقابلہ کیا بلکہ دوپہر کی دھوپ سے اسکا بدن بھی جل گیااسکی
پیاس بجھانے کیلئے پتھروں پر اگنے والی کائی سے جمع ہونے والے تھوڑے سے پانی کے
علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔وہ ساحل پر ادھر ادھر بھٹکتی رہی۔اگلے کچھ دن تک کیا ہوا
یہ بات انجیلا کو ٹھیک سے یاد نہیں،اسکی یہ یادیں دھندلا گئی ہیں۔
وہ لوگوں کی تلاش میں ساحل سمندر پر چلتی،ریت سے بچنے کے لیے پتھروں پر چڑھتی اور گرم چٹانوں سے بچنے کے لیے ساحل پر چلتی۔ اسے ایک اونچی جگہ مل گئی جہاں وہ چڑھ سکتی تھی۔ہر روز وہ اسپر چڑھتی تاکہ پہاڑ کے پار چلنے والی کاروں میں سے کسی کی توجہ حاصل کرنےمیں کامیاب ہوسکے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اس اونچے مقام پر اس وقت تک کھڑی رہتی جب تک کہ "سورج ناقابل برداشت نہ ہو جائے۔"لیکن اسکی یہ ساری محنت بیکار جاتی رہی۔ انجیلا نے حادثے کے تقریباً تین دن بعد ہی پانی کی کمی کے اثرات کو محسوس کرنا شروع کیا۔ وہ ایک بار اپنا سامان دیکھنے کے لیے واپس اپنی کار میں گئی اور اسے 10 انچ کی ریڈی ایٹر نلی ملی جو اس نے اپنے سویٹر کی جیب میں رکھی تھی۔ اس نے وہاں پر موجود ایک چھوٹے قدرتی چشمے سے ٹپکنے والے تازہ پانی کو جمع کرنے کے لیے نلی کا استعمال کیا۔
رات کے وقت سمندر کی لہریں اونچی ہوتی ہیں
اسلئے انجیلا ایک اونچی چٹان پر چڑھ جاتی تھیں۔آج اسکی چھٹی رات تھی،آج بھی وہ رات گزارنے کیلئے اونچی چٹان پر چڑھ گئی
اور وہی سوگئی۔صبح سویرے انجیلا کی آنکھ اسکے کندھے میں لگی چوٹ کے درد سے کھلی۔جاگنے
کے بعد اسنے دور ساحل پر نظر دوڑائی۔اسے دور ایک عورت ساحل پر چلتی ہوئی دکھائی
دی۔پہلے تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا۔لیکن پھر اسنے مدد کیلئے اس عورت
کو پکارنا شروع کیا ۔اس عورت نے اسے دیکھ لیا ،وہ یہاں سرفنگ کرنے اپنے شوہر کے
ساتھ آئی تھی۔اسی طرح ساتویں دن اسکی جان بچالی گئی۔

