فرینکلن مہم اور اسکا انجام

 

وہ بحری جہازآخرکہاں گیا؟بحری سفرکی تاریخ کا سب سے انوکھا اور جان لیوا سفر

1845 میں، دو بحری جہاز کینیڈا کے انتہائی شمالی جزیرہ نما کے ٹھنڈے اور ویران پانیوں میں داخل ہوئے، جوکینیڈا کے  شمال مغربی راستے کی تلاش میں تھے جہاں سے یورپی اورامریکی بحری جہازبحراوقیانوس میں داخل ہوا جاسکے۔ چینل کے وسیع دروازے پر، ان کا سامنا دو اور بحری جہازوں سے ہوا جو انکی مخالف سمت  میں سفرکر رہے تھے۔ یہ ان جہازوں اور ان کے عملے کوزندہ دیکھنے والے  آخری  چشم دید گواہ تھے۔اسکے بعد یہ دونوں سمندری جہاز اور انکا عملہ سمندری مہم جوئی کا ایک معمہ بنا رہا۔ اگلے 169 سال تک یہ دوجہاز ریسرچرزکیلئے ایک ایسا سوال بن کرکھڑے رہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کنیڈا کے اس خطرناک اور انتہائی شمال میں واقع دنیا کے سرد ترین سمندر میں یہ جہاز اور اسکا عملہ کیا تلاش کررہے تھے اور یہ کون تھے؟اور قریب 169سال تک یہ معمہ کیسے بنے رہے،آج ہم اسی موضوع پر گفتگو کرنے والے ہیں۔


فرینکلن مہم

فرینکلن کے سفر کا آغاز کیسے اور کب ہوا؟

1804 میں، ریاضی کے استاد اور جغرافیہ دان  سر جان بیرو برطانیہ کے ایڈمرلٹی کے دوسرے سکریٹری بن گئے۔ان کے دور میں یورپ اور ایشیائ ملکوں کے درمیان خشکی کے تجارتی راستوں پر ترک عثمانیوں کا قبضہ تھا۔یورپی ملک خاص طور پر برطانیہ کا تجارتی سامان سمندری راستے سے ہی ایشا اور امریکہ کے دوسرے حصوں تک جاتا تھا۔جوکہ کافی لمبا اور مہنگا راستہ تھا۔بیر و چاہتے تھے کہ شمال کی طرف سے کینڈا کے پاس سے اگر سمندری راستہ تلاش کیا جائے تو یہ اٹلانٹک اور پیسفک سمندروں کو ملانے والا سب سے چھوٹا راستہ ہوسکتا ہے۔یوں ایشیا پہنچنے کے لیے شارٹ کٹ راستہ  تلاش کرنے سے یورپی تاجروں کو ہندوستان اور چین کے چاندی، سونا، مصالحے اور ریشم تک رسائی حاصل ہو گی۔ سمندری راستے تلاش کرنے کے لیے پر عزم، سرجان بیرو نے 1804 سے لیکر 1845 میں اپنی ریٹائرڈمنٹ تک اپنے پورے دور میں کئی کامیاب سمندری مہمیں بھیجیں ۔ کئی دہائیوں تک زمین کے چاروں کونوں کو کامیابی سے دریافت کرنے کے بعد، بیرو، جو تب 82 سال کا ہوچکا تھا، اپنے شاندار کیرئیر کے اختتام کے قریب تھا۔ریٹائرڈمنٹ سے پہلے وہ ایک اہم اور اپنے کیرئر کا آخری کام کرنا چاہتا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ ایک ایسا سمندری راستہ تلاش کیا جائے جوانگلینڈ سے امریکی براعظم  کی دوسری طرف اورایشائ ملکوں تک پہنچنے کیلئے آسان اور شارٹ ہو۔اس مقصدکیلئےانہوں نےکنیڈا کے شمالی پانیوں میں راستے کھوجنے کیلئے ایک اہم مہم بھیجنے کی تیاری شروع کی۔اس  اہم اورخطرناک مہم کیلئے 2 سمندری جہاز تیار کیئے گئے۔ایک جہاز کا نام ایریبس،تھا جسکی لمبائی 105 فٹ  تھی۔ دوسرا جہاز قدرے چھوٹا تھا جس کا نام  ٹیرر تھا۔یہ دونوں جہاز اس زمانے کے اعتبار سے جدید تھے۔ ان میں نہ صرف طاقت ور سٹیم انجن تھے بلکہ سمندری پانی کو صاف کرنے کے دو سٹیم پمپ بھی تھے۔


فرینکلن مہم

الغرض سر جان بیرو اس مہم کے دوران کسی بھی طرح کا رسک نہیں لینا چاہتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا سمندری تجارتی روٹ دریافت کیا جائے جس سے نہ صرف امریکہ اور برطانیہ کے درمیان سمندری راستہ کم سے کم ہو اور محفوظ بھی ہو۔جہازوں کی تیاری کے بعد مرحلہ آیا اس مہم کی سربراہی کا۔تو اس مقصد کیلئے ان کے پاس 5 مشہور مہم جو تھے ۔پہلا ولیم پیری تھا جو اس طرح کی کئی مہمات کامیابی سے انجام دے چکا تھا،لیکن انہوں نے مزید کسی مہم کا حصہ بننے سے انکارکیا،دوسراجیمز راسک تھے جسکی نئی شادی ہوئی تھی اسلئے وہ نہیں جاسکے،تیسرا فرانسس کرازی تھا جوکہ ایک آئرش تھے،سرجان بیری کسی آئرش کو اس مہم پر بھیجنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ برٹش انہیں کم تر خیا ل کرتے تھے۔چوتھا جیمز تھا جو جوان تھا اور ناتجربہ کا ر تھا،اس لئے اس اہم مہم پر اسے بھیجنے کا رسک جان بیرو نہیں اٹھانا چاہتےتھے۔پانچویں انسان  سرجان فرینکلن تھے جنہیں اس مہم کیلئے چنا گیا۔

فرینکلن مہم


دراصل فرینکلن پہلے بھی دوبارشمال مغربی سمندری راستہ کھوجنے کی کوشش کرچکے تھے جو بری طرح ناکام ہوچکیں تھیں۔جبکہ ایک مہم میں تو وہ مرتے مرتے بچے تھے۔دراصل پچھلی ایک  مہم کے دوران وہ آرکٹک میں ایک ویران جزیرے پر پھنس گئے تھے۔جہاں اسکے آدھے سے زیادہ ساتھیوں کی  بھوک اورسردی سےموت ہوچکی تھی جبکہ  زندہ بچنے والوں کو انتہائی بھوک  اورسردی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اسی دوران بھوک مٹانے کیلئے فرینکلن کو اپنے جوتے خودہی  کھانے پڑے تھے۔لیکن ان تمام ناکامیوں کے باوجود سرجان بیرو کے پاس فرینکلن کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔بیرو نے نہ چاہتے ہوئے فرینکلن کو اس مہم کی سربراہی سونپی۔اس بحری بیڑے میں شامل دونوں جہازوں کے کیپٹن ،فرینسس کروزئر اور جیمزفٹز جیمز  بھی انتہائی تجربہ کار تھے۔

فرینکلن مہم کی سفرپرروانگی

19 مئی 1845 کو ایسٹ لندن سے یہ مہم روانہ ہوگئی۔اس مہم میں 134 لوگ شامل تھے۔اس مہم میں ایک کتا ،ایک بندر ار ایک بلی بھی شامل تھی۔دوٹن تمباکو،5700 لیٹر شراب،12ہزار کتابیں اور 16ہزار ٹن پیک کھانے کے ڈبے بھی شامل تھے۔اسکے علاوہ کچھ کھیل کا سامان بھی شامل تھا۔ اس مہم کی پہلی منزل انگلیند کے قریب  سٹارم نیس  نام کا جزیرہ تھا۔اس کے بعد یہ دونوں جہاز گزین لینڈ کے جزیرے ویل فش پر پہنچے۔یاد رہے یہاں تک انکے ساتھ دو اور جہاز بھی سفر میں شامل تھے۔جنکا کام اس  مقام تک پہنچنے تک انہیں رسد پہنچانا تھا۔مہم کے ساتھ آئے جہاز انہیں اس مقام تک پہنچانے کے بعد واپس چلے گئے۔انکے ساتھ مہم میں شامل 5 بیمار لوگ بھی واپس چلے گئے۔اس جزیرے پر کچھ دن اس مہم نے آرام کیا اور اپنے اپنے پیاروں کے نام خط لکھے جو انہی دو جہازوں کےزریعے روانہ کیئے گئے۔

فرینکلن مہم


فرینکلن مہم کا پراسرار طور پر لاپتہ ہونا

12جولائی 1845 کو یہ مہم 129 کرو ممبرز کے ساتھ پھر سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔بیفن بے میں ان کی ملاقات دو اور جہازوں سے ہوئی جو مخالف سمت سے آرہے تھے۔ان دونوں جہازوں کے کرو ممبرز نے اس مہم کو لانکسٹر ساونڈ نام کے سمندری چینل میں داخل ہوتے دیکھا۔واضح رہے یہ آخری بارتھا جب فرینکلن مہم کو زندہ سلامت دیکھا گیا تھا۔اسکے بعد اس مہم میں شامل جہازوں اور عملے کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔یہ پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے۔

کھوئے ہوے فرینکلن اوراس کے ساتھیوں کی تلاش

اگلے 169 سالوں تک کسی کو ان دو جہاذوں اور ان کے عملے کی کوئی خبر موصول نہ ہوئی۔دوسال کے بعد جان فرینکلن کی بیوی لیڈی جین فرینکلن کو کچھ برا ہونے کا شبہ ہوا۔انہوں نے برٹش ایڈمرلٹی کو ایک خط لکھ کر فرینکلن مہم کی تلاش کی درخواست کی۔انکی تائید میں برٹش پارلیمینٹ کے کچھ ممبرز اور دیگر بااثر شخصیات نے بھی دباؤ برٹش ایڈمیررلٹی پر دباؤ ڈالنا شروع کیا۔بالآخر برٹش ایڈمرلٹی نے 1948 کے موسم بہار میں پہلی اورلینڈ  سرچ ٹیم روانہ کی۔یہ فرینکلن مشن کی تلاش میں نکلی پہلی سرچ ٹیم تھی ۔ اسکے بعد اگلے 150 سال تک مختلف سرچ ٹیمیں اس گمشدہ فرینکلن مشن کی تلاش کرتی رہیں۔ ان 150 سالوں میں مختلف اوقات پر مختلف ٹیموں کو اس گمشدہ مشن کے کچھ نہ کچھ آثار ملتے رہے۔اس مشن کے غائب ہونے کی پوری کہانی شاید ہمیں کبھی پتا نہ چل سکے ،کیونکہ اس مشن کے ساتھ کیا ہوا تھا،یہ صرف وہی بتاسکتے تھے اگر ان میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہوتا۔لیکن انکی تلاش میں اگلے 150 سال تک آرکٹک سرکل کے ٹھنڈے پانیوں میں گھومنے والے ایکسپلوررز کی جمع کی ہوئی معلومات سے یہ انداقہ لگایا گیا ہے کہ آخر ان دوجہازوں میں سوار 129 سیلرز کے ساتھ کیا ہوا تھا۔1848 سے لیکر 1850تک مختلف سرچ ٹیمیں انکی تلاش میں جاتی رہیں لیکن کو ئی کامیابی نہیں ملی۔بلآخر عوامی دباؤ میں آکر برٹش گورنمنٹ نے گمشدہ جہازوں اور اس کے عملے کی اطلاع دینے والوں کیلئے 20ہزارپونڈ انعام کا اعلان کیا۔جس کی وجہ سے مختلف لوگوں نے نجی طور پر انکی تلاش شروع کردی۔ان متلاشیوں کو اگلے تیس سالوں تک ان گمشدہ جہازوں سے متعلق کچھ نہ کچھ معلومات ملتی رہیں۔جن میں ان جہازوں پر لادا گیا ٹن پیک کھانا،کچھ چمچ اور چھری کانٹے وغیرہ۔جن سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ ان جہازوں پر سوار تمام کرو کی موت ہوچکی ہے۔ان کی موت کا سب سے بڑا سبب ،بھوک،خون جمادینے والی سردی اور بیماری ہوسکتے تھے۔1854 تک یہ صرف اندازہ ہی تھا۔


فرینکلن مہم

فرینکلن کی تلاش میں ملا پہلاثبوت

1854 میں ایک سرچ ٹیم کو ایک پختہ ثبوت مل گیا۔1854 میں ایک سرچ مہم کے دوران، آرکٹک کے ایکسپلورر جان راے(Rae) نے،ارکٹک سرکل کے مقامی باشندوں جنہیں  inuteکہا جاتاہے،سے ایک عجیب واقعہ  سنا۔ جان راے، ہڈسن بے نام کی کمپنی کے سرجن اور سرویئرتھے۔ 1854 میں بوتھیا جزیرہ نما کی طرف سفر کرتے ہوئے، مقامی باشندوں کے مطابق 4 سال پہلے ان کے علاقے میں کچھ سفید فام لوگ آئے تھے۔جن کی بھوک اور بیماری کی وجہ سے موت ہوگئی تھی۔Rae نے Inuit سے ناقابل تردید شواہد حاصل کیے جن میں: ایک چاندی کی پلیٹ، کٹلری (یاچھری)کے ٹکڑے اور فرینکلن کا رائل ہینوورین آرڈر کا تمغہ شامل تھا۔ان کی رپورٹ میں یہ بھی شامل تھا کہ شدید بھوک کی وجہ سے اس گم شدہ مہم میں شامل لوگ آدم خور بھی ہوگئے تھے۔موسم سرما شروع ہونے سے پہلے رائے اپنی معلومات کے ساتھ انگلینڈ واپس آگیا۔رائے کی رپورٹ پر سخت تنقید کی گئی۔


فرینکلن مہم

فرینکلن مہم دوسال تک ایک جزیرے پرپھنسا رہا

Rae کی رپورٹ کے بعد، لیڈی فرینکلن نے فرانسس میک کلینٹاک، جوایک تجربہ کار بحری افسرتھا،کو تلاش جاری رکھنے کاٹاسک دیا۔ اس مقصد کیلئے فرانسس  نے کنگ ولیم آئی لینڈ کا سفر کیا، جہاں اس نے اور اس کے سیکنڈ ان کمانڈ، لیفٹیننٹ ولیم ہوبسن نےاپنی تلاش شروع کی ۔ ہوبسن کی پارٹی نے  کنگ ولیم آئی لینڈ کےمغربی ساحل کی تلاش کی، اور فرانسس کی پارٹی نے مشرق کا سفر کیا۔ McClintock نے دو Inuit  یعنی مقامی باشندوں کے کیمپوں سے، HMS Erebus اور HMS Terror سے مذیدچاندی کے سامان اور لکڑی کی چیزیں برآمد کیں۔

 فرینکلن مہم کا آخری پیغام اور موت کا سفر!

جیسے ہی وہ آگے کا سفر کر رہا تھا، اس نے فرینکلن کے عملے سے تعلق رکھنے والی مذید چیزیں دریافت کیں جس میں جہاز میں موجود لائف بوٹس کو کھنچنے  والا ایک بھاری سلیج بھی شامل تھا۔ جب کہ دوسری طرف  McClintock کی مہم کو راستے میں مردہ انسانوں کی ہڈیاں، قبریں، کتابوں اور لباس جیسی باقیات ملیں۔دریں اثنا، ہوبسن کو وکٹری پوائنٹ پر ایک پتھر کا کیرن یا مینار بھی ملا۔اس مینار کے  اندر ایک میٹل  ٹیوب تھی جس میں کاغذ کی ایک شیٹ تھی، جس پر دو پیغامات لکھے ہوئے تھے۔ پہلا، مئی 1847 کو لکھا گیا تھا،یہ  اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فرینکلن مہم نے اپنا موسم سرما بیچی نام کےجزیرے پرگزارا تھا اور ستمبر 1846 سے برف میں پھنسے ہوئے تھے۔ پیغام کا اختتام "سب اچھا" کے ساتھ ہواتھا۔دوسرا پیغام، اپریل 1848 میں اسی کاغذ پرلکھا گیاتھا، دونوں پیغامات میں  لہجہ اور لکھائی  میں کافی فرق تھا۔ کپتان فرانسس کروزر اور جیمز فٹزجیمز کے دستخط شدہ پیغام میں بتایا گیا کہ آج تک کل نو افسران اور 15 آدمی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 11 جون 1847 کوہلاک ہوئےسر جان فرینکلن بھی شامل ہیں۔

فرینکلن مہم


زندہ بچ جانے والوں کا انوکھا اورخطرناک فیصلہ!

 اس پیغام میں مذید  لکھا گیا تھاکہ بچ جانے والے 105 افراد نے بحری جہازوں کو چھوڑ دیاہے اور وہ جنوب کی طرف گریٹ فش ریور  کی طرف جا رہے ہیں جسے اس وقت بیک ریور بھی کہاجاتا تھا جو کینیڈاکےاضلاع شمالی میکنزی اور کیواٹن سے گزرتی ہے۔ McClintock کی اس مہم سے اشارے ملے تھے جوفرینکلن مہم کی دردناک آزمائش کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ کنگ ولیم آئی لینڈ کے ساحل سے ستر میل نیچے سلیج کرنے کے بعد ایک لاوارث کشتی ایک بڑی اور عارضی سلیج سے منسلک پائی گئی۔ کشتی میں دو انسانی ڈھانچے بھی تھے، جن میں سے ایک کو جنگلی جانوروں نے چیرپھاڑدیا تھا، دوسرا اس سے کم، جس کے آگے گھڑیاں اور دو لوڈڈ بندوقیں  تھیں جو سیدھی تھیں۔ اس کے علاوہ کشتی میں بڑی مقدار میں سامان تھا جس میں حیرت انگیز چیزیں جیسے کہ ریشمی رومال، تولیے اور سپنج تھے۔ کچھ کھانا تھا، جس میں ایک خالی ٹن بھی شامل تھا جس میں بائیس پاؤنڈ گوشت تھا۔ آس پاس کی کتابوں پر "G.G" یا "Graham Gore" کا نشان لگایا گیا تھا۔ وکٹری پوائنٹ  پر ایک اور جگہ سے ضائع شدہ سامان کی ایک بڑی مقدار بھی ملی جس میں گرم کپڑے، دیگر دھاتی اشیاء کے ساتھ چار بھاری چولہے جیسے بیرل ہوپس، نیوی گیشن گیئر، ایک دوائی کیبنٹ، اور بہت زیادہ موسم سرما کے کپڑےاورکھانے کے خالی ٹن شامل تھے۔ وکٹری پوائنٹ کے شمال میں تین کیرنز ملے، پہلی، تین میل کے بعد ایک خالی کنستر تھا، دوسرے میں کچھ بھی نہیں تھا، اگلا تین چھوٹے خیموں کی باقیات اور کچھ دوسرے ٹکڑوں سے گھرا ہوا تھا۔ تہہ شدہ کاغذ کا ایک ٹکڑا کیرن کی چٹانوں میں ٹکڑا ہوا پایا گیا تھا لیکن وہ خالی تھا، دو ٹوٹی ہوئی کارک شدہ بوتلیں ملی تھیں، اگر ان میں پیغامات موجود تھے تو وہ بہت پہلے سے اڑا چکے تھے۔


فرینکلن مہم

تھک ہار کر میک کلینٹاک اور فاکس کا عملہ اپنے جہاز پر واپس آئے اور 6 اگست کو برطانیہ کے لیے روانہ ہوئے اور 21 ستمبر 1859 کو واپس لندن پہنچے ۔ ایریبس اور ٹیررکے پہلی بار روانہ ہونے کے 14 سال بعد برطانیہ میں سرکاری طور پر فرینکلن کی تلاش ختم کی جاچکی تھی۔سرچ اوپریشن پر اب تک بہت زیادہ خرچ کیا جاچکا تھا۔برطانوی حکومت سمیت دیگر افراد اور اداروں نے آج کے 20 ملین ڈالرز سے زیادہ خرچ کیا تھا۔لیکن اس ریسکو اوپریشن کا ایک مثبت پہلوبھی ہے،اس ریسکو آپریشن کے دوران پورے  آرکٹک کو نقشہ بنایا گیااور ایسے راستے بھی دریافت ہوئے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔

امریکی صحافی چارلس فرانسس ہال کی تحقیق

 سمندری سفر کی تاریخ کے اس انوکھے اور سنسنی خیز واقعے نے  برطانیہ اور کینیڈا سے باہربھی  بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ چارلس فرانسس ہال ایک امریکی صحافی تھے جو فرینکلن کی کہانی سے بہت متاثر تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مہم سے بچ جانے والے افراد انوئٹ نام کے آرکٹک سرکل  میں رہنے والے  مقامی باشندوں کے پاس کہیں نہ کہیں اب بھی زندہ ہوسکتے ہیں۔اس لئے انہوں نے فرینکن مہم کے باقی بچ جانے والے عملے کی تلاش کا فیصلہ کیا۔اس مقصد سے چارلس فرانسس ہال نے 1860-1871 تک پورے خطے کا سفر کیا، انہوں نے کئی انوئٹ باشندوں  کا انٹرویو کیا اوراس گمشدہ مہم کے بارے میں کئی  ثبوت جمع کیئے۔ یہ تمام ثبوت  دو Inuit ٹرانسلیٹرز کی مدد سے جمع کیے گئے  جو ہال کے دوست بن گئے تھے۔ ان دونوں کو حنا اور جوزف کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔یہ دونوں میاں بیوی انگریزی زبان جانتے تھے۔علاقے کے ایک Inuk نے معلومات کا ایک اہم حصہ فراہم کیا۔ اس نے بتایا کہ اس نے بچپن میں ایک جہاز کو دیکھا تھا،اس نے ہال کو وہ جگہ بھی بتائی جہاں اسنے جہاز کو دیکھا تھا۔ ہال کی رپورٹس اور انٹرویوز سے اگلے 150  سالوں تک ایکسپلوررز کی کافی مدد کی۔


فرینکلن مہم

امریکی صحافی کی تحقیق جسکی مدد سے 169سال بعد سمندری جہازوں کا ملبہ دریافت

ریسکو مشنز مزید 19 سال تک وقفے وقفے سے جاری رہیں جن میں ایک اورمشن کو لیڈی فرینکلن نے 1874 میں فنڈ کیا۔ آخری مہم 1878 میں ہوئی تھی، اس میں بہت سے ان بدقسمت سیلرز کے بہت سے آثار ملے ، کئی قبروں کی بھی نشاندہی کی گئی اور کئی  لاشیں بھی ملی جنہیں دفن کیا گیا۔ ریسکو مشن کے 31 سال بعد اور اس مہم کے انگلینڈ سے نکلنے کے 33 سال بعدکسی بھی طرح کی ریسکو مشنز کوختم کیا گیا۔لیکن کچھ  سوال  ایسے تھے جن کے جواب تلاش کرنا ابھی باقی تھا۔پہلا سوال تھا کیا فرینکلن مہم میں شامل باقی عملہ کہا ں چلا گیا؟ فرینکلن مہم میں شامل دونوں جہاز ایریبس اور ٹیرر کہاں غائب ہو گئے؟


فرینکلن مہم

19ویں صدی میں شروع ہوئی گمشدہ  فرینکلن مہم کی تلاش 20ویں صدی سے ہوتے ہوئے 21ویں صدی میں داخل ہوئی۔169 سال گزرنے کے باوجود ان دوجہازوں ایریبس اور ٹیررکا کچھ پتا نہ چل سکا۔لیکن  ستمبر 2014 میں ایک پیش رفت ہوئی جب پارکس کینیڈا کی قیادت میں ایک مہم نے HMS Erebus کے ملبے کو تلاش کیا، کنگ ولیم جزیرے سے 80 کلومیٹر جنوب میں تھا۔اس کے لگ بھگ دوسال بعد ایک دوسری پیش رفت ستمبر 2016 میں ہوئی، جب HMS Terror کا ملبہ بھی شمال میں دریافت ہوا۔